نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

ضروری وضاحت

ضروری وضاحت 

مکرمی قارئین                      السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 
 امید کہ بخیر ہوں گے،اس بلاگ پر کئی تحریر ایسی بھی ہے جو کئی ماہ و سال قبل اخبارات و نیوز پورٹل میں شائع ہوچکی ہے۔ ممکن ہے کہ اس تحریر سے کسی بدگمانی کے شکار ہوگئے ہوں گے؛ لیکن ان تحریر کو اس بلاگ پر اپڈیٹ کر نے کی ضرورت یوں محسوس ہوئی کہ یہ وہ تحریر ہے جو میری نظروں میں میرے لئے سند کا درجہ رکھتی ہے؛ اس لئے بلاگ پر اپڈیٹ کردیا ہوں تاکہ وہ تحریر کم ازکم میری نظروں میں محفوظ رہے۔ عدیم  الفرصتی اور مشغولیت کے ہجوم کے باعث لکھنا پڑھنا نہیں ہوپار ہا ہے؛ اس لئے تواتر کے ساتھ لکھنا بھی نہیں ہورہا ہے ان شاء اللہ جلد سابق کی طرح لکھنے کی کوشش کروں گا۔ میں سوچ رہا تھا کہ بلاگ بنانے کے بعد قارئین کو بلاگ پڑھنے کے لئے دعوت دینی پڑے گی کہ آئیے بلاگ پڑھئے؛ لیکن دوچار پوسٹ اپڈیٹ کرنے کے بعد محسوس ہو رہا ہے کہ ماشاء اللہ قارئین از خود کھنچے چلے آرہے ہیں ابھی مولانا فضیل احمد ناصری کا کلام اپڈیٹ کیا تقریبا پانچ سو سے زائد افراد نے اس پوسٹ کو پڑھا اور دیکھا جب کہ فیس بک پر میں نے صرف لنک پوسٹ کیا تھا کسی کو ٹیگ بھی نہ کیا۔ یہ شروعات یقینا حوصلہ افزا ہے اگر اسی طرح قارئین اس بلاگ پر تشریف لاتے رہیں تو  یقینا ہم اپنے مشن میں کامیاب ہوجائیں گے۔ معاصر قلم کار کی تحریر بھی ان شاء اللہ اس بلاگ پر پڑھنے کو ملیں گی جن کی تحریرمقبول عام ہیں،ہم ان نئے لکھنے کو بھی موقعہ دیں گے جن کی تحریر معیاری ہوں گی اوربحیثیت ایک قلمکارو مصنف کے ان کی تحریر تمام غلطیوں سے پاک ہوں گی،البتہ اس ذیل میں اتنا خیال ضرور رکھیں کہ آپ کی تحریر سرقہ نہ ہوں اگر دینی مضمون ہے تو کم از کم قرآن و حدیث کا حوالہ ضرور دیں تاکہ اس کی افادیت اور معیار قائم رہے۔
والسلام 
ایڈمین بلاگ 
افتخاررحمانی 
Emal:iftikharrahmani9@gmail.com
آپ اپنی تحریر صرف ان پیج فارمیٹ یا ورڈ فارمیٹ میں ٹائپ کرکے بھیجیں 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کلام شاعر : حضرت فضیل احمد ناصری عنبر

 فضیل  احمد ناصری ملک کے حالات پر غمگین ایک   نظم  ہم نے گوروں سے اس کو چھڑایا، جان دے کر، سروں کو کٹا کے ہم بھی مالک تمہاری طرح ہیں، ھند کی خوب صورت فضا کے اس حقیقت سے تم بھی ہو واقف، ہم ہیں اولاد ان اولیا کی جن کا شیوہ تھا پتھر کے بدلے، پھول دشمن کو دیں مسکرا کے ہم تمہارے ستاے ہوے ہیں، ہم سے احوال کیا پوچھتے ہو؟ جھک گئے سارے کاندھے ہمارے، روز ہی اپنی لاشیں اٹھا کے اس تغافل کو کیا نام دیں ہم، ہم پہ یوں بھی ستم ہو رہے ہیں خیریت پوچھتے ہیں وہ آ کر، سب کی گردن پہ چھریاں چلا کے مسجدِ بابری تم نے ڈھادی، رام مندر بھی بن کر رہے گا کب تلک ہم پہ جاری رکھوگے، سلسلے تم یہ اپنی جفا کے جن کی فطرت ہے دہشت پسندی، اب محبانِ بھارت وہی ہیں ہم پہ اسلام لانے کے باعث، سخت الزام ہیں بے وفا کے حکمراں اپنے ایسے ہیں یارب! زخم دے کر لگاتے ہیں مرہم جیسے کوئی 'حسیں' دل دکھا کر، ہاتھ اپنے اٹھاے دعا کے حکمرانو! سدا یاد رکھنا، جان ہیں ہم ہی اس انجمن کی ملک اپنا اجالا نہ ہوگا، قومِ مسلم کی شمعیں بجھا کے امن کی فاختائیں اڑائیں، ہم نے جب حکمرانی یہاں ...
بی جے پی کا ایک اور جھوٹ عیاں : بنگلہ دیش کے تشدد کی تصویر کو بنگال کے تشددکی تصویر بتادیا کولکاتہ 25 اپریل مغربی بنگال کے پنچایتی انتخابات میں بی جے پی کو اپنے انتخابی منشور میں بڑی چوک کی وجہ شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انتخابی منشور میں تشدد کی جن تصاویر کو بنگال سے منسلک بتایا گیا ہے وہ دراصل بنگلہ دیش کی ہیں۔ پارٹی نے منگل کے روز اس انتخابی منشور کا اجرا کیا تھا ۔ انتخابی منشور کے کتابچہ کے کور کے پچھلے حصے پر ان تصاویر کو کولاج کے طور پر شائع کیا گیا ہے.۔ یہ تصاویر بنگلہ دیش میں 2013 میں جنگی جرائم سے منسلک مقدموں کے بعد بھڑکے تشدد کے دوران کی ہیں۔ بی جے پی نے ایسی تصاویر کا استعمال اپنے پروپیگنڈہ کے طور پر کیا ہے۔ بی جے پی اکثر ممتا بنرجی کے دور حکومت میں مغربی بنگال میں ہندوؤ ¿ ں کے مبینہ استحصال کا الزام لگاتی رہی ہے ۔ تصویر میں مظاہرین کو ٹوپی پہنے اور ہاتھ میں لاٹھیاں لئے دیکھا جا سکتا ہے، پس منظر میں کچھ گاڑی جلتی ہوئی نظر آ ر ہی ہیں۔کچھ دیگر تصاویر میں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مسخ شدہ مورتی کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ واضح ہو کہ بنگلہ دیش کے نصیرنگر میں اکتو...

عہد ِ نوکے حالی : مولانا فضیل احمد ناصری

قسط اول  عہد ِ نوکے حالی : مولانا فضیل احمد ناصری  خامہ بر دوش : افتخاررحمانی ، دہلی حالی پوری قوم کو توحید وایمان کی تعلیم ، اشعار میں نئے معانی و مطالب کے اظہار ، قوم کی فکر ، ملک سے سچی محبت کا درس اور شاعری کو ایک نئی رخ دینے کی کوشش آخری دم تک کرتے رہے ، ان کی سوچ و فکر کا دائرہ کار وسیع تر تھا ان کا ایمان تھا کہ اگر پوری قو م میں بیداری آ جائے تو نہ یہ کہ صر ف قوم کا بھلا ہو گا ؛ بلکہ اس کے ساتھ اس ملک کا بھی بھلا ہوجائے گا۔ حالی چونکہ نانیہال سے سادات سے تعلق رکھتے تھے تو دادھیال سے انصاری الاصل تھے۔ ان کے آبا و اجداد قوم کے امام و پیشو اتھے ؛ لہٰذا انہوں نے ہمیشہ قوم کو بیداری کی تعلیم دی اور یہی ان کی زندگی کا مقصد بھی تھا۔حالی کا مطمحِ نظر ہمیشہ یہ رہا کہ وہ قوم کو پستی سے نکال کر عظمت رفتہ کی مسند و کرسی پر جلوہ آرا کردیں ؛ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، گرچہ قدرت کی صناعی ” مسدس حالی “ منصہ شہود پر لے آئی ،مگر قوم دن بدن زوال پذیر ہوتی گئی ،حتی کہ وہ دن بھی آیا جب یہی فاتح و غالب کی نسلیں دو خونیں لکیروں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئیں۔ جو کل ت...