نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دشمن کو فلسطینی املاک کے قبضے کی سہولت دینا حرام ہے: فتویٰ   مقبوضہ بیت المقدس21اپریل ( آئی این ایس انڈیا) فلسطین میں سپریم افتا ءکونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ فتوے میں واضح کیا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس اور ارض فلسطین کے کسی بھی دوسرے حصے پر دشمن کو املاک کی ملکیت میں سہولت فراہم کرنا حرام ہے۔ ذرائع کے مطابق فلسطین افتاءکونسل کی طرف سے یہ فتویٰ گذشتہ روز کونسل کے اجلاس کے بعد جاری کیا گیا۔ افتاءکونسل کا اجلاس مفتی اعظم کی زیرصدارت ہوا جس میں ملک کے 162 جید علماءکرام نے شرکت کی۔فتوے کے متن میں کہا گیا ہے کہ عرب کا مسلمانوں کے کسی گروپ یا شخص کی طرف سے قابض اسرائیل کو فلسطینی اراضی یا کسی بھی قسم کی دوسری املاک فروخت کرنا یا دشمن کو اس کی ملکیت بنانا، دشمن کے ساتھ تعاون کرنا، ہمدردی جتانا، بالواسطہ، بلا واسطہ، رائے یا اسلحہ اور طاقت کے ذریعے دشمن کا ساتھ دینا شرعا حرام ہے۔فتوے میں پورے عالم اسلام اور عرب دنیا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ رنگ، نسل، علاقے اور زبان سمیت دیگر تمام امتیازات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قبلہ اول اور القدس کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔فتوے...

عہد ِ نوکے حالی : مولانا فضیل احمد ناصری

قسط اول  عہد ِ نوکے حالی : مولانا فضیل احمد ناصری  خامہ بر دوش : افتخاررحمانی ، دہلی حالی پوری قوم کو توحید وایمان کی تعلیم ، اشعار میں نئے معانی و مطالب کے اظہار ، قوم کی فکر ، ملک سے سچی محبت کا درس اور شاعری کو ایک نئی رخ دینے کی کوشش آخری دم تک کرتے رہے ، ان کی سوچ و فکر کا دائرہ کار وسیع تر تھا ان کا ایمان تھا کہ اگر پوری قو م میں بیداری آ جائے تو نہ یہ کہ صر ف قوم کا بھلا ہو گا ؛ بلکہ اس کے ساتھ اس ملک کا بھی بھلا ہوجائے گا۔ حالی چونکہ نانیہال سے سادات سے تعلق رکھتے تھے تو دادھیال سے انصاری الاصل تھے۔ ان کے آبا و اجداد قوم کے امام و پیشو اتھے ؛ لہٰذا انہوں نے ہمیشہ قوم کو بیداری کی تعلیم دی اور یہی ان کی زندگی کا مقصد بھی تھا۔حالی کا مطمحِ نظر ہمیشہ یہ رہا کہ وہ قوم کو پستی سے نکال کر عظمت رفتہ کی مسند و کرسی پر جلوہ آرا کردیں ؛ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا ، گرچہ قدرت کی صناعی ” مسدس حالی “ منصہ شہود پر لے آئی ،مگر قوم دن بدن زوال پذیر ہوتی گئی ،حتی کہ وہ دن بھی آیا جب یہی فاتح و غالب کی نسلیں دو خونیں لکیروں میں تقسیم ہو کر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئیں۔ جو کل ت...

’اب اور کتنے انظر...................!‘

’اب اور کتنے انظر...................!‘ برجستہ: افتخاررحمانی      گذشتہ تحریر میں راقم نے اس نکتہ کی وضاحت کی تھی کہ بھارتی میڈیا”درباری رقاصہ کا گھونگرو“بن گیاہے، ہم ہی صرف ا س کا اعادہ نہیں کرتے؛ بلکہ ہمارے قارئین بھی سمجھ رہے ہیں، چونکہ ہمارا حلقہ محدود ہے؛ لیکن ملک میں بسنے والے ایک ارب کی آبادی میں 50فیصدی  بھی اس ”مکروہ عمل“ کا ادراک کر رہے ہیں، تاہم وہ داخلی غیظ و جبر کے سوا کسی اور شی کے اظہار پر قادر نہیں ہیں؛کیونکہ اس پچاس فیصدی میں تیس فیصدی وہ افراد بھی ہیں جو ”نادیدہ لہروں“ کی دھنوں پر تھرک رہے ہیں، شاید ان کا یہ عقیدہ ہے کہ ان کے اس ”رقص شرر“کے باعث ملک میں ترقی اور ”وکاس“اہل چشم و دیدہ تو کجا چشم ودیدہ سے محروم بھی محسوس کریں گے۔ یہ ان کی خود فریبی اور”طلسمِ زعفران“کی معجزنمائی ہے ورنہ حقیقت اس سے سوا ہے۔ ہم کل بھی 16مئی 2014کی شام میں کہہ چکے تھے اور تین سال گذر جانے کے بعد اب بھی وہی کہہ رہے ہیں کہ ”وکاس“ کوئی لاہوتی مخلوق نہیں وہ تو بھارت کی جمہوری فضا میں پرواز کرے گا بس اس شرط کے ساتھ کہ اس کے تقاضوں کو ”بھارتی ضمیر“ کے ساتھ پورا ...

جھوٹ کی اشاعت اور میڈیا کا کر دار

جھوٹ کی اشاعت اور میڈیا کا کر دار  برجستہ:افتخار رحمانی،بصیرت آن لائن یوں توصحافت ایک مقدس پیشہ تھا اور اگر اس کی تقدیس کے بھرم کے ساتھ اپنایا جائے تو اس کی تقدیس کو گرہن نہیں لگ سکتا ہے؛ لیکن جو مجموعی صورتحال  ادھر چند سالوں سے ملک میں بنی ہے وہ جمہوریت اور حقوق انسانی کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔ جب عورت کسی رئیس کے کوٹھے کی زینت بن جائے تو اسے عوام ’طوائف‘ کہتے ہیں۔ عورت کا حسن یہ ہے کہ وہ کوٹھے کی زینت نہ ہو؛ بلکہ ’شمع خانہ‘ ہو او ر اگر جب قلم کسی رئیس، حکومت، سیاست داں اور تاجر برادری کا غلام بن جائے تو وہ ’قلم حرفہ‘ ہو جاتا ہے۔ ملک کی صورتحال ابھی کچھ ایسی ہی ہے، ہمارا یہ مقدس شعبہ ’ضمیر فروش‘ ہوچکا ہے اور یہ صورتحال مسلسل مزید اپنی ہولناکی کی طرف تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ہو پھر ملک کا پرنٹ میڈیا اس مسابقت میں آگے بڑھ جانے کو اپنی سرخروئی سمجھ رہا ہے۔ اگر 100فیصدی میں سے 1فیصدی میڈیا ہاؤس سچ بولتا ہے تو ایک کے سچ بولنے سے جھوٹ کے منفی اثرات کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور سچی بات تو یہی ہے کہ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ملک کی صورت حال، گرتی معیشت، نوٹ بند...

لٹ گئی متاع حیات خود فریبی میں کہیں!

لٹ گئی متاع حیات خود فریبی میں کہیں! برجستہ: افتخاررحمانی  ملک کو آزاد ہوئے تقریبا سات دہائی گذر چکی ہے اور ملک میں اب بھی ایک معتد بہ طبقہ خوف وہراس اور زیاں نفسانی کے ماحول میں گذران زندگی پر مجبور ہے جب کہ آئین میں اس مقہور طبقہ کے تحفظ کی فراہمی کیلئے تمام شقیں موجود ہیں اور اس کو یقینی بنانے کیلئے تمام کوششوں کو بھی لازمی تصور کیا گیاہے؛ لیکن ان تمام امور کے تیقن کے باوجود تشنہ لبی یہ ہے کہ ان سے یکسر تغافل کیا جاتا رہا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا صرف بر سراقتدار طبقہ ہی ان امور کو ملحوظ رکھے یا پھر جن کے لئے یہ حقوق وضع کئے گئے ہیں وہ بھی اتلاف حقوق پر صدائے احتجاج بلند کریں،شاید یہ ہماری بھول ہے یا پھر ہماری معصومیت کہ ہم اشکبار ی تو جانتے ہیں؛ لیکن ردعمل کی کوششوں سے گریز کرتے ہیں دراں حا لیکہ ہم ان سے واقف بھی ہوتے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ سعی پیہم سے اجتناب کرتے ہیں؟ یہ سوال نہیں ہیں؛ بلکہ ہمارے لئے یہ تازیانے ہیں؛ کیونکہ جب کوئی قوم خود کو قعر مذلت میں دھکیل دے تو سوال ان کیلئے تازیانہ ہوا کرتا ہے۔ ہم تو اغیار کے ظلم و ستم پر اشکباری کرتے ہیں؛ لیکن خود کو مین اسٹریم ...

فیک نیوز کے زمانے میں

تحریر: گوری لنکیش ترجمہ: افتخار رحمانی اس ہفتہ کے ایشوسے متعلق میرے دوست ڈاکٹر واسو نے گوئے بلز کی طرح ہندوستان میں فیک نیوز بنانے کی فیکٹری کے متعلق لکھا ہے جھوٹ کی ایسی فیکٹریاں عموما مودی بھکت ہی چلاتے ہیں ـ جھوٹ کی فیکٹریوں سے جو نقصان ہورہا ہے میں اس سے متعلق اپنے اداریہ میں واضح کرنے کی کوشش کروں گی ـ ابھی "گنیش چترتھی" تھی اس دن سوشل میڈیا میں ایک افواہ پھیلائی گئی اس افواہ کی اشاعت کے پس پردہ سنگھ کے ہی حامی تھے ـ یہ افواہ کیا ہے؟ افواہ یہ ہے کہ کرناٹک سرکار جہاں حکم دے گی وہیں گنیش کی مورتی نصب کرنا ہوگی، اس سے قبل دس لاکھ رقم ڈپازٹ کرنی ہوگی، مورتی کی لمبائی کتنی ہوگی اس کے لئے حکومت سے اجازت لینی ہوگی، دوسرے مذاہب (اسلام)  کے ماننے والے جہاں رہتے ہیں ان علاقوں اور راستوں سے مورتی وسرجن کے لئے نہیں جاسکتے اور پٹاخے ،آتش بازی وغیرہ بھی نہیں کرسکتے ـ سنگھ کے حامیوں نے اس جھوٹ کی اتنی شدت کے ساتھ  اشاعت و تشہیر کی کہ بالآخر کرناٹک پولس کے اعلی حکام کو پریس کانفرنس کے ذریعہ مبینہ پروپیگنڈہ کی تردید کرنی پڑی کہ حکومت نے ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ہے؛ بلکہ یہ...

تیرے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا!

تسنیم کوثر  بھارت کا مسلمان آج جس کسوٹی پر کس کر  حب الوطنی  کے نام نہاد  نعرہ پر اپنے ہی ملک میں جان ہتھیلی  پر لئے پھر رہا ہے یہ کسی سنگھی  یا  بی جے پی کے سورما  کا کیا دھرا نہیں  بلکہ اسی کانگریس کا گڑھا  مفروضہ ہے جس کانگریس کی مسلمان آج بھی  اپنے خون سے آبیاری کر رہے ہیں ۔چیر پھاڑ کئے بغیر زخم ٹھیک نہیں ہوں گے۔ لیجئے  گجرات میں شنکر سنگھ واگھیلہ  نے اپنا بوجھ اتار پھینکا۔گجرات میں كکانگریس کا جو حال ہونے والا ہے اس پر بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے، آپ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجئےکہ کانگریس کا قیام شروع دن سے جس مقصد کے لئے کیا گیا تھا وہ آج ملک کے تمام فیصلہ ساز اداروں پر آر ایس ایس کے لوگوں کے قبضے نے ثابت کر دیا ہے۔ اس ملک میں  اب تک جتنے فساد ہوئے کسی ایک  مجرم کو پھانسی نہیں ہوئی ۔لاکھوں  قتل ہوئےکروڑوں  در بدر۔آج   اسی گجرات کو لیجئےاحسان جعفری کے ساتھ ساتھ 5000 مسلمانوں کی قربانی ان ہی دونوں پارٹیوں کو زندہ رکھنے کے لئے دی جا چکی ہے اور آج بھی مسلمان ہے کہ آنکھ پر پٹی بان...